Font by Mehr Nastaliq Web

ظہورِ ذات تم ہو علمِ حق کا مدعا تم ہو

بیہوش محبوب نگری

ظہورِ ذات تم ہو علمِ حق کا مدعا تم ہو

بیہوش محبوب نگری

MORE BYبیہوش محبوب نگری

    ظہورِ ذات تم ہو علمِ حق کا مدعا تم ہو

    سجی ہے جس کی خاطر محفلِ ارض و سما تم ہو

    نگاہِ دیدہ ور میں جلوہ گر صبح و مسا تم ہو

    کہیں شمس الضحیٰ تم ہو کہیں بدرالدجیٰ تم ہو

    تمہاری ذات ہی مخلوق اور خالق میں برزخ ہے

    ادھر رحمت فزا تم ہو ادھر سرِّ خدا تم ہو

    جہاں کی بادشاہت ہے تصدق اس فقیری پر

    لباسِ فقر میں کونین کے حاجت روا تم ہو

    یہاں تاجِ رسالت ہے وہاں تاجِ شفاعت ہے

    سمجھ میں آگیا بے شک شہِ ہر دوسرا تم ہو

    خدا کے نور سے تم ہو تمہارے نور سے ہر شے

    تو پھر سب کا مرض تم ہو دوا تم ہو شفا تم ہو

    تم ہی بیہوشؔ کے آقا بھی ہو اور اس کے رہبر بھی

    یہاں بھی اور وہاں بھی اس کا واحد آسرا تم ہو

    مأخذ :
    • کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 134)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے