ظہورِ ذات تم ہو علمِ حق کا مدعا تم ہو
ظہورِ ذات تم ہو علمِ حق کا مدعا تم ہو
سجی ہے جس کی خاطر محفلِ ارض و سما تم ہو
نگاہِ دیدہ ور میں جلوہ گر صبح و مسا تم ہو
کہیں شمس الضحیٰ تم ہو کہیں بدرالدجیٰ تم ہو
تمہاری ذات ہی مخلوق اور خالق میں برزخ ہے
ادھر رحمت فزا تم ہو ادھر سرِّ خدا تم ہو
جہاں کی بادشاہت ہے تصدق اس فقیری پر
لباسِ فقر میں کونین کے حاجت روا تم ہو
یہاں تاجِ رسالت ہے وہاں تاجِ شفاعت ہے
سمجھ میں آگیا بے شک شہِ ہر دوسرا تم ہو
خدا کے نور سے تم ہو تمہارے نور سے ہر شے
تو پھر سب کا مرض تم ہو دوا تم ہو شفا تم ہو
تم ہی بیہوشؔ کے آقا بھی ہو اور اس کے رہبر بھی
یہاں بھی اور وہاں بھی اس کا واحد آسرا تم ہو
- کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 134)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.