عرش اعلیٰ پہ ہے حضرت کا قدم آج کی رات
عرش اعلیٰ پہ ہے حضرت کا قدم آج کی رات
کھل گیا طائرِ سدرہ کا بھرم آج کی رات
امتی جتنا کرم لوٹیں ہے کم آج کی رات
سامنے حق کے ہیں سلطانِ امم آج کی رات
عبد و رب میں نہ رہا پردۂ حائل کوئی
مٹ گیا فرقِ حدوث اور قدم آج کی رات
قاب قوسین کی روداد کا اجمال ہے یہ
ہوگئے عاشق و معشوق بہم آج کی رات
کھل گیا راز الیٰ عبدہٖ ما اوحیٰ سے
ذاتِ حق خود ہوئی مائل بہ کرم آج کی رات
دیکھ کر نازشِ آدم کی یہ شانِ پرواز
گھٹ گیا سینے میں ابلیس کا دم آج کی رات
آپ کے صدقے میں امّت نے بھی پایا ہے عروج
خیر امت کا لقب پا گئے ہم آج کی رات
سن کے اعلان کہ مؤمن کی ہے معراج نماز
رقص کرنے لگے خود لوح و قلم آج کی رات
نسبتِ نقشِ قدم ہی کو سمجھ لے بیہوشؔ
تجھ کو نعلینِ محمد کی قسم آج کی رات
- کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 61)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.