Font by Mehr Nastaliq Web

عرش اعلیٰ پہ ہے حضرت کا قدم آج کی رات

بیہوش محبوب نگری

عرش اعلیٰ پہ ہے حضرت کا قدم آج کی رات

بیہوش محبوب نگری

MORE BYبیہوش محبوب نگری

    عرش اعلیٰ پہ ہے حضرت کا قدم آج کی رات

    کھل گیا طائرِ سدرہ کا بھرم آج کی رات

    امتی جتنا کرم لوٹیں ہے کم آج کی رات

    سامنے حق کے ہیں سلطانِ امم آج کی رات

    عبد و رب میں نہ رہا پردۂ حائل کوئی

    مٹ گیا فرقِ حدوث اور قدم آج کی رات

    قاب قوسین کی روداد کا اجمال ہے یہ

    ہوگئے عاشق و معشوق بہم آج کی رات

    کھل گیا راز الیٰ عبدہٖ ما اوحیٰ سے

    ذاتِ حق خود ہوئی مائل بہ کرم آج کی رات

    دیکھ کر نازشِ آدم کی یہ شانِ پرواز

    گھٹ گیا سینے میں ابلیس کا دم آج کی رات

    آپ کے صدقے میں امّت نے بھی پایا ہے عروج

    خیر امت کا لقب پا گئے ہم آج کی رات

    سن کے اعلان کہ مؤمن کی ہے معراج نماز

    رقص کرنے لگے خود لوح و قلم آج کی رات

    نسبتِ نقشِ قدم ہی کو سمجھ لے بیہوشؔ

    تجھ کو نعلینِ محمد کی قسم آج کی رات

    مأخذ :
    • کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 61)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے