Font by Mehr Nastaliq Web

تم ہی نورِ خدا ہو جاوداں اول سے آخر تک

بیہوش محبوب نگری

تم ہی نورِ خدا ہو جاوداں اول سے آخر تک

بیہوش محبوب نگری

MORE BYبیہوش محبوب نگری

    تم ہی نورِ خدا ہو جاوداں اول سے آخر تک

    تم ہی ہو ذاتِ وحدت کا نشاں اول سے آخر تک

    تم ہی محبوبِ رب مقصود اظہارِ مشیت ہو

    تم ہی سے ہے نمودِ ایں و آں اول سے آخر تک

    نوازا ہے تمہیں اللہ نے تاج شفاعت سے

    کہ ہو امت پہ اپنی مہرباں اول سے آخر تک

    شہ لولاک بھی ہوا ور ختم المرسلیں بھی ہو

    بہر سو ہے تمہارا ہی بیاں اول سے آخر تک

    یہ نص مارمیت سے زمانے پر ہوا ظاہر

    تم ہی ہو مظہر حق بے گماں اول سے آخر تک

    یہ سینہ ہے کہ نورِ علمِ مطلق کا خزینہ ہے

    تم ہی اللہ کے ہو رازداں اول سے آخر تک

    وہ مکہ ہو حرا ہو ثور ہو عرشِ معلیٰ ہو

    سناتے ہیں تمہاری داستاں اول سے آخر تک

    کرم فرمائیے در پر وہی بیہوشؔ ہے آقا

    رہا جو عشق میں وقفِ فغاں اول سے آخر تک

    مأخذ :
    • کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 70)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے