تم ہی نورِ خدا ہو جاوداں اول سے آخر تک
تم ہی نورِ خدا ہو جاوداں اول سے آخر تک
تم ہی ہو ذاتِ وحدت کا نشاں اول سے آخر تک
تم ہی محبوبِ رب مقصود اظہارِ مشیت ہو
تم ہی سے ہے نمودِ ایں و آں اول سے آخر تک
نوازا ہے تمہیں اللہ نے تاج شفاعت سے
کہ ہو امت پہ اپنی مہرباں اول سے آخر تک
شہ لولاک بھی ہوا ور ختم المرسلیں بھی ہو
بہر سو ہے تمہارا ہی بیاں اول سے آخر تک
یہ نص مارمیت سے زمانے پر ہوا ظاہر
تم ہی ہو مظہر حق بے گماں اول سے آخر تک
یہ سینہ ہے کہ نورِ علمِ مطلق کا خزینہ ہے
تم ہی اللہ کے ہو رازداں اول سے آخر تک
وہ مکہ ہو حرا ہو ثور ہو عرشِ معلیٰ ہو
سناتے ہیں تمہاری داستاں اول سے آخر تک
کرم فرمائیے در پر وہی بیہوشؔ ہے آقا
رہا جو عشق میں وقفِ فغاں اول سے آخر تک
- کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 70)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.