Font by Mehr Nastaliq Web

مثالِ بے مثالی تھا جو فطرت کے خزینے میں

فیاض علی عروجؔ

مثالِ بے مثالی تھا جو فطرت کے خزینے میں

فیاض علی عروجؔ

MORE BYفیاض علی عروجؔ

    مثالِ بے مثالی تھا جو فطرت کے خزینے میں

    وہی دُرِ یتیم بحرِ رحمت ہے مدینے میں

    یہاں کچھ لطف مرنے میں نہ کوئی کیف جینے میں

    حیات وموت کو آواز دی جائے مدینے میں

    فلاحِ دین و دنیا نے یہیں سے روشنی پائی

    مری عقبیٰ مدینے میں مری دنیا مدینے میں

    ابوالقاسم ہیں گویا قاسمِ گنجینۂ جنت

    کوئی ثانی نہیں ہے ان کا بخشش کے قرینے میں

    مجھے اپنے خدا کی ناخدائی پر بھروسہ ہے

    مری کشتی سما سکتی نہیں طوفاں کے سینے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے