مثالِ بے مثالی تھا جو فطرت کے خزینے میں
مثالِ بے مثالی تھا جو فطرت کے خزینے میں
وہی دُرِ یتیم بحرِ رحمت ہے مدینے میں
یہاں کچھ لطف مرنے میں نہ کوئی کیف جینے میں
حیات وموت کو آواز دی جائے مدینے میں
فلاحِ دین و دنیا نے یہیں سے روشنی پائی
مری عقبیٰ مدینے میں مری دنیا مدینے میں
ابوالقاسم ہیں گویا قاسمِ گنجینۂ جنت
کوئی ثانی نہیں ہے ان کا بخشش کے قرینے میں
مجھے اپنے خدا کی ناخدائی پر بھروسہ ہے
مری کشتی سما سکتی نہیں طوفاں کے سینے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.