عصیاں سے ہے دامن آلودہ اک چشم_کرم ہو شاہ_امم
عصیاں سے ہے دامن آلودہ اک چشم کرم ہو شاہ امم
یثرب کے دھنی اللہ غنی یا عالی نسب سلطان حرم
مسکین ہوں میں تسکین ملے محتاج ہوں میں میری لاج رہے
دامن میں چھپا کر لایا ہوں صد اشک ندامت رنج و الم
ہے ذات تیری کائنات تیری اب بگڑی بنا دو بات میری
یا شاہ عرب تیرے سائل کی رہ جائے شرم سب دور ہوں غم
تدبیر میری تقصیر بنی تقدیر کا مارا آیا ہوں
فریاد ہے اب امداد طلب یا امی لقب مختار عجم
میں دور پڑا ہوں ساحل سے میں بھٹکا ہوا ہوں منزل سے
میں مجرم ہوں خود محرم ہو اپنا لینا تیرے در کی رسم
اے ختم رسل اے جامۂ کل واللیل زلف اے چشم لطف
حسنین کا صدقۂ بھیک ملے تیرا قادریؔ ہوں تیرے در کی قسم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.