Font by Mehr Nastaliq Web

ہے گرمیٔ بازارِ محشر زیادہ

فائق بدایونی

ہے گرمیٔ بازارِ محشر زیادہ

فائق بدایونی

MORE BYفائق بدایونی

    ہے گرمیٔ بازارِ محشر زیادہ

    ہوائے عنایت ہے اب کیا ارادہ

    شہِ دو جہاں اور یہ وضع سادہ

    ہیں پیوند جس میں وہ تن پر لبادہ

    نواز ا جب ان کی نگاہِ کرم نے

    نظر آئی فردِ عمل اپنی سادہ

    ہے خورشیدِ محشر جلانے کی دھن میں

    ذرا بارشِ ابرِ رحمت زیادہ

    فلک تا بماہی مسلم ہے شاہی

    مگر شان یہ ہے کہ مسند نہ جادہ

    برا ہوں اگر میں تو کچھ غم نہیں ہے

    بروں سے انہیں ہے محبت زیادہ

    لبوں پر ہے دم تشنگی بڑھ رہی ہے

    اب اے میرِ کوثر چلے دور بادہ

    ادا سجدہ شکر ہو ہر قدم پر

    مدینہ کو جاؤں مگر پا پیادہ

    گذر جائے یہ عمر نعتِ نبی میں

    یہی اب تو فائقؔ ہے اپنا ارادہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے