ہے گرمیٔ بازارِ محشر زیادہ
ہے گرمیٔ بازارِ محشر زیادہ
ہوائے عنایت ہے اب کیا ارادہ
شہِ دو جہاں اور یہ وضع سادہ
ہیں پیوند جس میں وہ تن پر لبادہ
نواز ا جب ان کی نگاہِ کرم نے
نظر آئی فردِ عمل اپنی سادہ
ہے خورشیدِ محشر جلانے کی دھن میں
ذرا بارشِ ابرِ رحمت زیادہ
فلک تا بماہی مسلم ہے شاہی
مگر شان یہ ہے کہ مسند نہ جادہ
برا ہوں اگر میں تو کچھ غم نہیں ہے
بروں سے انہیں ہے محبت زیادہ
لبوں پر ہے دم تشنگی بڑھ رہی ہے
اب اے میرِ کوثر چلے دور بادہ
ادا سجدہ شکر ہو ہر قدم پر
مدینہ کو جاؤں مگر پا پیادہ
گذر جائے یہ عمر نعتِ نبی میں
یہی اب تو فائقؔ ہے اپنا ارادہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.