Font by Mehr Nastaliq Web

شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے

فدا خالدی دہلوی

شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے

فدا خالدی دہلوی

MORE BYفدا خالدی دہلوی

    شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے

    جہاں تک دیکھتا ہوں روشنی محسوس ہوتی ہے

    ابھی ٹوٹا نہیں ہے سلسلہ ان کی توجہ کا

    ابھی تو میری آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے

    کلیجے سے لگا رکھا ہے غم میں نے شہِ دیں کا

    کہ اس غم میں حیاتِ دائمی محسوس ہوتی ہے

    کرم شیوہ ہے ان کا وہ کرم فرمائیں گے لیکن

    مجھے اپنی محبت میں کمی محسوس ہوتی ہے

    یہ کسی محفل میں لے آیا مرا ذوقِ طلب مجھ کو

    یہاں تو زندگی ہی زندگی محسوس ہوتی ہے

    مدینے کی فضائیں کیف آگیں روح پرور ہیں

    سُرور آنکھوں میں، دل میں سر خوشی محسوس ہوتی ہے

    یہاں تک راس آئی ہے محبت سرورِ دیں کی

    فداؔ آنسو بہا کر بھی خوشی محسوس ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے