شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے
شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے
جہاں تک دیکھتا ہوں روشنی محسوس ہوتی ہے
ابھی ٹوٹا نہیں ہے سلسلہ ان کی توجہ کا
ابھی تو میری آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے
کلیجے سے لگا رکھا ہے غم میں نے شہِ دیں کا
کہ اس غم میں حیاتِ دائمی محسوس ہوتی ہے
کرم شیوہ ہے ان کا وہ کرم فرمائیں گے لیکن
مجھے اپنی محبت میں کمی محسوس ہوتی ہے
یہ کسی محفل میں لے آیا مرا ذوقِ طلب مجھ کو
یہاں تو زندگی ہی زندگی محسوس ہوتی ہے
مدینے کی فضائیں کیف آگیں روح پرور ہیں
سُرور آنکھوں میں، دل میں سر خوشی محسوس ہوتی ہے
یہاں تک راس آئی ہے محبت سرورِ دیں کی
فداؔ آنسو بہا کر بھی خوشی محسوس ہوتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.