منزلِ دید آسان تر ہو گئی کوئی دقت نہیں اب نظر کے لیے
منزلِ دید آسان تر ہو گئی کوئی دقت نہیں اب نظر کے لیے
شہ کی چشمِ کرم کیا ادھر ہو گئی راستے کھل گئے عمر بھر کے لیے
جب مرا قافلہ سوئے طیبہ چلے، اشک بہتے رہیں، دل تڑپتا رہے
ہیں مناسب یہی صرف دو مشغلے، میرے دل کے لیے، چشمِ تر کے لیے
اشک آنکھوں میں ہوں، درد دل میں رہے اور روضہ ہو ان کا میرے سامنے
یہ سکوں کا سبب میرے دل کے لیے، وہ ہے راحت کا باعث نظر کے لیے
کب مدینے کی جانب سے آئے صبا اور آ کر کے مجھ سے اٹھ اے فداؔ
چل بلاتے ہیں تجھ کو حبیبِ خدا، جی رہا ہوں بس اک اس خبر کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.