Font by Mehr Nastaliq Web

منزلِ دید آسان تر ہو گئی کوئی دقت نہیں اب نظر کے لیے

فدا خالدی دہلوی

منزلِ دید آسان تر ہو گئی کوئی دقت نہیں اب نظر کے لیے

فدا خالدی دہلوی

MORE BYفدا خالدی دہلوی

    منزلِ دید آسان تر ہو گئی کوئی دقت نہیں اب نظر کے لیے

    شہ کی چشمِ کرم کیا ادھر ہو گئی راستے کھل گئے عمر بھر کے لیے

    جب مرا قافلہ سوئے طیبہ چلے، اشک بہتے رہیں، دل تڑپتا رہے

    ہیں مناسب یہی صرف دو مشغلے، میرے دل کے لیے، چشمِ تر کے لیے

    اشک آنکھوں میں ہوں، درد دل میں رہے اور روضہ ہو ان کا میرے سامنے

    یہ سکوں کا سبب میرے دل کے لیے، وہ ہے راحت کا باعث نظر کے لیے

    کب مدینے کی جانب سے آئے صبا اور آ کر کے مجھ سے اٹھ اے فداؔ

    چل بلاتے ہیں تجھ کو حبیبِ خدا، جی رہا ہوں بس اک اس خبر کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے