Font by Mehr Nastaliq Web

راہِ طیبہ کے سفر کی بات کر

غنی دہلوی

راہِ طیبہ کے سفر کی بات کر

غنی دہلوی

MORE BYغنی دہلوی

    راہِ طیبہ کے سفر کی بات کر

    تو مرے آقا کے گھر کی بات کر

    مجھ سے تو واعظ خدا کے واسطے

    سرورِ عالم کے در کی بات کر

    جس نے دی ایمان کی دولت تجھے

    اس کے فیضانِِ نظر کی بات کر

    جس کو کہتے ہیں حبیبِ کبریا

    صرف مجھ سے اس بشر کی بات کر

    بخشتا ہے جو دلوں کو روشنی

    مجھ سے زاہد اس قمر کی بات کر

    جس نظر نے بدلی تقدیرِ امم

    اے غنیؔ تو اس نظر کی بات کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے