راہِ طیبہ کے سفر کی بات کر
تو مرے آقا کے گھر کی بات کر
مجھ سے تو واعظ خدا کے واسطے
سرورِ عالم کے در کی بات کر
جس نے دی ایمان کی دولت تجھے
اس کے فیضانِِ نظر کی بات کر
جس کو کہتے ہیں حبیبِ کبریا
صرف مجھ سے اس بشر کی بات کر
بخشتا ہے جو دلوں کو روشنی
مجھ سے زاہد اس قمر کی بات کر
جس نظر نے بدلی تقدیرِ امم
اے غنیؔ تو اس نظر کی بات کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.