آرزو ہے کہ ترا گنبد_خضریٰ دیکھوں
آرزو ہے کہ ترا گنبد خضریٰ دیکھوں
جس طرف آنکھ اٹھے نور برستا دیکھوں
بیٹھنے چین سے دیتی نہیں حسرت دل کی
اب کسی طور ترا نقش کف پا دیکھوں
اس قدر آج میرے دل میں اجالا کر دے
میں بہ تا حد نظر تیرا سراپا دیکھوں
مجھ پہ یوں تیرا کرم ہو شہ مکی مدنی
ظلمت شب میں عیاں تیرا اجالا دیکھوں
اک کرم اور مرے حال پہ یا رب کر دے
موت آئے تو رخ سید والا دیکھوں
ہاتھ آئے نہ فرشتوں کے میری فرد عمل
یوں عنایت کا تری رنگ نرالا دیکھوں
غیر کی یاد سے یوں مجھ کو تو کر دے آزاد
دل میں دیکھوں تو فقط تیری تمنا دیکھوں
قطبؔ جب خاک مدینہ ہے ہر اک غم کا علاج
کیا غرض ہے کہ کوئی اور مسیحا دیکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.