یہی التجا ہے شہ_زماں ترے آستانے پہ سر رہے
یہی التجا ہے شہ زماں ترے آستانے پہ سر رہے
میری سجدہ ریزی چمک اٹھے جو نصیب میں ترا در رہے
تری ہر نظر ہے وہ کیمیا جو گدا کو کرتی ہے بادشاہ
مرے حال پر شۂ بحر و بر تری ایک ایسی نظر رہے
اے اجل ٹھہر کہ وہ آئیں گے انہیں اک نظر تو میں دیکھ لوں
غم مرگ کیا مرے روبرو شہ جن و انس اگر رہے
مری کامیاب ہو آرزو مری التجا یہ قبول ہو
کہ نثار آپ کے نام پر مری جان میرا جگر رہے
غم دہر دل سے نکال دو مرے آپ سے ہیں سوال دو
مرے سر کو آپ کا در ملے مرے دل میں آپ کا گھر رہے
یہ جو نظم نسق جہان ہے یہ میرے حضور کی شان ہے
وہ نہ ہوں تو قطبؔ جہاں کا یہ نظام زیر و زبر رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.