رخصت اے ہندوستاں! سوئے عرب جاتا ہوں میں
رخصت اے ہندوستاں! سوئے عرب جاتا ہوں میں
گو وطن ہے تو! تری نسبت سے شرماتا ہوں میں
اب بسوں کا جاکے میں اس سر زمینِ پاک میں
سو رہے ہیں سرورِ افلاک جس کی خاک میں
جس کے ذرے عرش کی آنکھوں کے تارے بن گئے
میرے دل میں زندگانی کے شرارے بن گئے
دیدۂ کوثر ہے پُرنم جس کی زمزم کے لیے
سرمہ جس کی خاک ہے چشمِ دو عالم کے لیے
حسنِ فطرت کی امیں ہے جس کی صحرائی بہار
کر دیا عہد ازل جس نے ابد سے ہم کنار
ہے ہوائے گرم جس کی روح عشق و جانِ عشق
اے خوشا پیمانِ الفت! اے خوشا ارمانِ عشق
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.