کیا بشر دنیا میں یہ خیرالبشر پیدا ہوا
کیا بشر دنیا میں یہ خیرالبشر پیدا ہوا
جس کی خاطر نیک و بد اور خیر و شر پیدا ہوا
نور سے جس کے ہوئی پر نور ساری سر زمیں
جس سے اوج چرخ پر شق القمر پیدا ہوا
جس کی ہستی سے نمایاں ہے نمود خشک و تر
جس کے ہونے سے وجود بحر و بر پیدا ہوا
چار سو تھے جس قدر اعدائے دین احمدی
آئے سب پنجہ میں جب یہ شیر نر پیدا ہوا
سجدہ اس دن آسماں نے بھی کیا سوئے زمیں
بر زمیں جس رات یہ روشن قمر پیدا ہوا
نور چشم مردم اہلِ بصیرت بڑھ گیا
جب وہ منظور خدا اہلِ نظر پیدا ہوا
خاکساری خاکسار وں کی مطلا بن گئی
خاک سے جب مصطفیٰ مانند زر پیدا ہوا
سروری حاصل ہوئی سب سرورانِ دہر کو
جب نبی جسم جہاں میں مثل سر پیدا ہوا
مل گیا تاج شرف آدم کو ساری خلق پر
ایسا اس کے گھر میں جب لائق پسر پیدا ہوا
مثل گل اس گل سے گلزار جہاں گل گل ہوئے
باغ دیں پھولا پھلا جب یہ ثمر پیدا ہوا
کیوں نہ ہو روشن چراغ خانۂ اہل قریش
اختر اوج نبوت ان کے گھر پیدا ہوا
کلمہ پڑھتا ہے محمد کا زبان عجز سے
جب سے ہے یہ سرورِؔ خستہ جگر پیدا ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.