Font by Mehr Nastaliq Web

کیا بشر دنیا میں یہ خیرالبشر پیدا ہوا

غلام سرور لاہوری

کیا بشر دنیا میں یہ خیرالبشر پیدا ہوا

غلام سرور لاہوری

MORE BYغلام سرور لاہوری

    کیا بشر دنیا میں یہ خیرالبشر پیدا ہوا

    جس کی خاطر نیک و بد اور خیر و شر پیدا ہوا

    نور سے جس کے ہوئی پر نور ساری سر زمیں

    جس سے اوج چرخ پر شق القمر پیدا ہوا

    جس کی ہستی سے نمایاں ہے نمود خشک و تر

    جس کے ہونے سے وجود بحر و بر پیدا ہوا

    چار سو تھے جس قدر اعدائے دین احمدی

    آئے سب پنجہ میں جب یہ شیر نر پیدا ہوا

    سجدہ اس دن آسماں نے بھی کیا سوئے زمیں

    بر زمیں جس رات یہ روشن قمر پیدا ہوا

    نور چشم مردم اہلِ بصیرت بڑھ گیا

    جب وہ منظور خدا اہلِ نظر پیدا ہوا

    خاکساری خاکسار وں کی مطلا بن گئی

    خاک سے جب مصطفیٰ مانند زر پیدا ہوا

    سروری حاصل ہوئی سب سرورانِ دہر کو

    جب نبی جسم جہاں میں مثل سر پیدا ہوا

    مل گیا تاج شرف آدم کو ساری خلق پر

    ایسا اس کے گھر میں جب لائق پسر پیدا ہوا

    مثل گل اس گل سے گلزار جہاں گل گل ہوئے

    باغ دیں پھولا پھلا جب یہ ثمر پیدا ہوا

    کیوں نہ ہو روشن چراغ خانۂ اہل قریش

    اختر اوج نبوت ان کے گھر پیدا ہوا

    کلمہ پڑھتا ہے محمد کا زبان عجز سے

    جب سے ہے یہ سرورِؔ خستہ جگر پیدا ہوا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے