وطن میں صبحِ بنارس رواج خسرو کا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
وطن میں صبحِ بنارس رواج خسرو کا
مسیحا دم ہے زمن میں علاج خسرو کا
جہاں کی ظلمتِ غم میں ہوائے طوفاں میں
جنوں کے فضل سے ہادی سراج خسرو کا
خرد کے رقص جنوں کی امنگ کا حاصل
زبانِ عشق کا سنگم مزاج خسرو کا
روایتیں ہوں کہ جدت صراطِ الفت ہے
رسومِ ہند میں ترکی رِواج خسرو کا
کبھی ہوا نہ تھا معقولِ اختلاطِ علوم
زمانہ جتنا کہ قائل ہے آج خسرو کا
ہجومِ خاص میں ممتاز کج کلاہی سے
دلِ عوام پہ قائم ہے راج خسرو کا
زبانِ ہندی و اردو کا بانی و آقا
سریرِ تُرکی و فارس پہ تاج خسرو کا
دلوں کو جوڑنا الفت سے کام ہے اس کا
حدیثِ دل کی اشاعت ہے کاج خسرو کا
وہ عاشقِ درِ مرشدِ فدائے سلطانی
شہی و فقر میں تھا امتراج خسرو کا
جہانِ علم پہ ہیں اس کے جس قدر احساں
ادا وطن سے نہ ہوگا خراج خسرو کا
وفاقِ سید و پنڈت کے فیض عرفاں سے
ہے چار د انگ میں روشن سراج خسرو کا
خدا کا شکر ہے گلزارؔ دہلوی کا وجود
ز فرق تابہ قدم ہے، مزاج خسرو کا
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 43)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.