Font by Mehr Nastaliq Web

وطن میں صبحِ بنارس رواج خسرو کا

گلزار دہلوی

وطن میں صبحِ بنارس رواج خسرو کا

گلزار دہلوی

MORE BYگلزار دہلوی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    وطن میں صبحِ بنارس رواج خسرو کا

    مسیحا دم ہے زمن میں علاج خسرو کا

    جہاں کی ظلمتِ غم میں ہوائے طوفاں میں

    جنوں کے فضل سے ہادی سراج خسرو کا

    خرد کے رقص جنوں کی امنگ کا حاصل

    زبانِ عشق کا سنگم مزاج خسرو کا

    روایتیں ہوں کہ جدت صراطِ الفت ہے

    رسومِ ہند میں ترکی رِواج خسرو کا

    کبھی ہوا نہ تھا معقولِ اختلاطِ علوم

    زمانہ جتنا کہ قائل ہے آج خسرو کا

    ہجومِ خاص میں ممتاز کج کلاہی سے

    دلِ عوام پہ قائم ہے راج خسرو کا

    زبانِ ہندی و اردو کا بانی و آقا

    سریرِ تُرکی و فارس پہ تاج خسرو کا

    دلوں کو جوڑنا الفت سے کام ہے اس کا

    حدیثِ دل کی اشاعت ہے کاج خسرو کا

    وہ عاشقِ درِ مرشدِ فدائے سلطانی

    شہی و فقر میں تھا امتراج خسرو کا

    جہانِ علم پہ ہیں اس کے جس قدر احساں

    ادا وطن سے نہ ہوگا خراج خسرو کا

    وفاقِ سید و پنڈت کے فیض عرفاں سے

    ہے چار د انگ میں روشن سراج خسرو کا

    خدا کا شکر ہے گلزارؔ دہلوی کا وجود

    ز فرق تابہ قدم ہے، مزاج خسرو کا

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 43)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے