تجھ بن بھی کیا میں نے خوش تلخیٔ ہجراں کو
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "بے روئے تو خوش کردم من تلخیٔ ہجراں را" کا اردو منظوم ترجمہ۔
تجھ بن بھی کیا میں نے خوش تلخیٔ ہجراں کو
دیدار کی شربت سے بدخو نہ کیا جاں کو
دل الجھے ہیں کل شب کیا گیسو کے سنورنے سے
اب جیت لے آخر دم ہر قلب پریشاں کو
ہر دل ہے ترے پیچھے جس سمت بھی تو جائے
گو خلق کی آنکھیں ہیں نظارۂ سلطاں کو
بدبخت مرا دل تو دیوانہ بتوں کا ہے
یا رب تو یہ دل دیجو ہندو نہ مسلماں کو
کہتے ہیں حسینوں سے بدنام ہوا خسرو
سنتا نہیں دل خسرو کیا کیجیے فرماں کو
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 113)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.