Font by Mehr Nastaliq Web

تجھ بن بھی کیا میں نے خوش تلخیٔ ہجراں کو

گلزار دہلوی

تجھ بن بھی کیا میں نے خوش تلخیٔ ہجراں کو

گلزار دہلوی

MORE BYگلزار دہلوی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "بے روئے تو خوش کردم من تلخیٔ ہجراں را" کا اردو منظوم ترجمہ۔

    تجھ بن بھی کیا میں نے خوش تلخیٔ ہجراں کو

    دیدار کی شربت سے بدخو نہ کیا جاں کو

    دل الجھے ہیں کل شب کیا گیسو کے سنورنے سے

    اب جیت لے آخر دم ہر قلب پریشاں کو

    ہر دل ہے ترے پیچھے جس سمت بھی تو جائے

    گو خلق کی آنکھیں ہیں نظارۂ سلطاں کو

    بدبخت مرا دل تو دیوانہ بتوں کا ہے

    یا رب تو یہ دل دیجو ہندو نہ مسلماں کو

    کہتے ہیں حسینوں سے بدنام ہوا خسرو

    سنتا نہیں دل خسرو کیا کیجیے فرماں کو

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 113)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے