دیکھیں گے مدینہ ترے گلزار کا موسم
دیکھیں گے مدینہ ترے گلزار کا موسم
عنبر میں دھلے کوچہ و بازار کا موسم
خوشبو سے معطر ہیں زمانے کی فضائیں
جس سمت بھی دیکھا ہے ترے پیار کا موسم
دنیا میں ترے نام کی کیا دھوم مچی ہے
رقصاں ہے تری یاد میں سنسار کا موسم
امت تری گمراہی کی دلدل میں دھنسی ہے
اے کاش بدل جائے یہ کردار کا موسم
ہوتا رہے دن رات درودوں کا وظیفہ
ہو جائے معطر مرے گھر بار کا موسم
ہم ان کی غلامی کا پہن لیں جو قلادہ
بگڑے نہ کبھی سیرت و کردار کا موسم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.