Font by Mehr Nastaliq Web

ہے تشنہ آرزو آقا مدینے اب بلا لیجے

حافظ عبدالجلیل

ہے تشنہ آرزو آقا مدینے اب بلا لیجے

حافظ عبدالجلیل

MORE BYحافظ عبدالجلیل

    ہے تشنہ آرزو آقا مدینے اب بلا لیجے

    بھلائی آپ کا شیوہ فقیروں سے بھلا کیجے

    پشیماں ہیں کھڑے مجرم اُدھر محشر کی گرمی ہے

    کرم کیجیے گنہگاروں کو دامن میں چھپا لیجے

    نہ گھبرانا گنہ گارو ابھی امید باقی ہے

    وہ آئے شافعِ محشر سو عرضِ مدعا کیجے

    نہیں معلوم پھر آنا یہاں کب ہو مقدر میں

    مدینے کا حسیں منظر نگاہوں میں بسا لیجے

    جلیلؔ ان کی غلامی نے یہ عقدہ ہم پہ کھولا ہے

    خدا بھی مان جائے گا اگر ان سے وفا کیجے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے