ہے تشنہ آرزو آقا مدینے اب بلا لیجے
ہے تشنہ آرزو آقا مدینے اب بلا لیجے
بھلائی آپ کا شیوہ فقیروں سے بھلا کیجے
پشیماں ہیں کھڑے مجرم اُدھر محشر کی گرمی ہے
کرم کیجیے گنہگاروں کو دامن میں چھپا لیجے
نہ گھبرانا گنہ گارو ابھی امید باقی ہے
وہ آئے شافعِ محشر سو عرضِ مدعا کیجے
نہیں معلوم پھر آنا یہاں کب ہو مقدر میں
مدینے کا حسیں منظر نگاہوں میں بسا لیجے
جلیلؔ ان کی غلامی نے یہ عقدہ ہم پہ کھولا ہے
خدا بھی مان جائے گا اگر ان سے وفا کیجے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.