یارو مجھے حضور کی قربت میں لے چلو
یارو مجھے حضور کی قربت میں لے چلو
مجھ غم زدہ کو قریۂ راحت میں لے چلو
میں جل رہا ہوں کب سے یہاں غم کی دھوپ میں
اب تو مجھے بھی سایۂ رحمت میں لے چلو
عصیاں کے اس مریض کا کوئی نہیں علاج
چارو گرو حضور کی صحبت میں لے چلو
خوشبوئے مصطفیٰ کی میں برکت سمیٹ لوں
مجھ کو حرا و ثور کی خلوت میں لے چلو
محشر میں مجھ کو دیکھ کے کہنے لگے ملک
نوکر ہے یہ حضور کا جنت میں لے چلو
پائے گا دل کا چین کہ ہے مضطرب جلیلؔ
اس کو اٹھا کے مرکزِ راحت میں لے چلو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.