بسی دل میں ہمیشہ سے مدینے کی طلب آقا
بسی دل میں ہمیشہ سے مدینے کی طلب آقا
درِ اقدس پہ آنے کا بنے گی پھر سبب آقا
میں لت پت ہوں گناہوں میں مگر اے رحمت عالم
جو پھر بھی آپ بلوائیں نہیں ہے کچھ عجب آقا
قطار اندر قطار آتے ہیں منگتے آپ کے در پر
سوال ان کا ہو جیسا بھی تو ٹھکراتے ہیں کب آقا
بسر ہو زندگی ساری کچھ اس انداز میں اپنی
کہ مکہ میں جو دن گزرے مدینے میں ہو شب آقا
تجھے رب نے وہ سکھلایا نہ تھا جو علم میں تیرے
نہیں مخفی ہے تجھ سے تو کسی کا بھی نسب آقا
کرم کی اک نظر کر دے بڑی مشکل نے گھیرا ہے
زبوں حالی مسلماں کی تجھے معلوم سب آقا
ذرا جھولی کو بھر دیجے یہ کیوں کر مانگ پائے گا
جلیلِؔ بے ہنر کو تو نہیں آتا ہے ڈھب آقا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.