کبھی تو قافلہ اپنا رواں سوئے حرم ہو گا
کبھی تو قافلہ اپنا رواں سوئے حرم ہو گا
بڑی امید ہے آقا کرم ہو گا کرم ہو گا
ترے در کی حضوری ہے وسیلہ ان کی بخشش کا
جنہوں نے اپنی جانوں پر کیا ظلم و ستم ہو گا
حفاظت ان کے ایماں کی یقینا پھر مسلم ہے
کہ ضامن جن کے ایماں کا مدینے کا حرم ہو گا
سجے گی اس پہ دستارِ فضیلت علم و عرفاں کی
کہ جو سر بھی مرے آقا تری چوکھٹ پہ خم ہو گا
بڑی خواہش ہے عاصی کی مری سرکار اس لمحے
ترا دیدار ہو جائے کہ جب پتلی میں دم ہو گا
تری نعلین کے صدقے نوازا ہے مرے رب نے
فقیرِ بے نوا پر اور کیا لطف و کرم ہو گا
اٹھے گا سرخرو ہو کر وہی میدانِ محشر میں
کہ جس کے ہاتھ میں تیری غلامی کا علم ہو گا
سگانِ کوچۂ سرکار کی صف میں جلیلؔ آخر
کبھی تو نام اپنا بھی رقم ہو گا رقم ہو گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.