Font by Mehr Nastaliq Web

کبھی تو قافلہ اپنا رواں سوئے حرم ہو گا

حافظ عبدالجلیل

کبھی تو قافلہ اپنا رواں سوئے حرم ہو گا

حافظ عبدالجلیل

MORE BYحافظ عبدالجلیل

    کبھی تو قافلہ اپنا رواں سوئے حرم ہو گا

    بڑی امید ہے آقا کرم ہو گا کرم ہو گا

    ترے در کی حضوری ہے وسیلہ ان کی بخشش کا

    جنہوں نے اپنی جانوں پر کیا ظلم و ستم ہو گا

    حفاظت ان کے ایماں کی یقینا پھر مسلم ہے

    کہ ضامن جن کے ایماں کا مدینے کا حرم ہو گا

    سجے گی اس پہ دستارِ فضیلت علم و عرفاں کی

    کہ جو سر بھی مرے آقا تری چوکھٹ پہ خم ہو گا

    بڑی خواہش ہے عاصی کی مری سرکار اس لمحے

    ترا دیدار ہو جائے کہ جب پتلی میں دم ہو گا

    تری نعلین کے صدقے نوازا ہے مرے رب نے

    فقیرِ بے نوا پر اور کیا لطف و کرم ہو گا

    اٹھے گا سرخرو ہو کر وہی میدانِ محشر میں

    کہ جس کے ہاتھ میں تیری غلامی کا علم ہو گا

    سگانِ کوچۂ سرکار کی صف میں جلیلؔ آخر

    کبھی تو نام اپنا بھی رقم ہو گا رقم ہو گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے