قلادہ شاہِ جیلاں کا گلے میں ڈال رکھا ہے
قلادہ شاہِ جیلاں کا گلے میں ڈال رکھا ہے
اسی نے غم کے طوفاں میں ہمیں سنبھال رکھا ہے
ہے نسبت قادری جس کی مقدر اس کا کیا کہنے
نظر ہو دیکھنے والی صدف میں لعل رکھا ہے
مریدی لا تخف کی ہے ضمانت ان کے نوکر کو
مرے رب نے بلائوں کو تبھی تو ٹال رکھا ہے
دھنسا جاتا ہوں دلدل میں گناہوں کی مگر میراں
ترے صدقے میں مولیٰ نے بھی پردہ ڈال رکھا ہے
کبھی حاجت نہیں رہتی ہمیں در در پہ جانے کی
ترے در کی غلامی نے سدا خوشحال رکھا ہے
کخردلۃٍ علیٰ حکمِ اتصالٖ سامنے سب کچھ
فرازِ آسماں میں یا تہِ پاتال رکھا ہے
دلِ مردہ جلا پائے گا بالآخر جلیلؔ اپنا
شہِ بغداد کے در پر جو ڈیرہ ڈال رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.