خیال طیبہ کے قرباں ہے دنیا کیف زا میری
خیال طیبہ کے قرباں ہے دنیا کیف زا میری
مدینے کا چمن میرا مدینے کی فضا میری
سکون دل قرار جاں بھی ہے ذکر جمیل ان کا
ہے یاد سرور کونین بھی مشکل کشا میری
بہ فیض شاہ دیں پہنچوں گا اک دن پھر مدینے میں
کہ لوٹے گی ہم آغوش اثر ہو کے دعا میری
محبت میں نہیں بیکار نغمہ ہو کہ نالہ ہو
پہنچتی ہے در محبوب عالم تک صدا میری
اجل آئی تو ان کی شکل زیبا سامنے ہوگی
نوید شوق لے کر آئے گی اک دن قضا میری
مداوائے دل رنجور ہے باب کرم ان کا
انہی کی بارگاہ پاک ہے دارالشفا میری
نہیں جچتا مری نظروں میں فن کیمیا سازی
کہ ہے خاک در شاہِ مدینہ کیمیا میری
مجھے راس آئی ہے مظہرؔ گدائی شاہ طیبہ کی
کہ ہے ذات شہِ ہر دوسرا حاجت روا میری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.