Font by Mehr Nastaliq Web

یا رب ہو در محبوب پر قیام

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

یا رب ہو در محبوب پر قیام

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ

    یا رب ہو در محبوب پر قیام

    طیبہ کے رات دن ہوں مدینے کی صبح و شام

    گزرے حیات کوئے رسول کریم میں

    چومے نگاہ بام و در سیدالانام

    ہے کیف بار سلسلہ اشک و آہ بھی

    جاری رہے حضور سے یہ نامہ و پیام

    اللہ سے تھیں طور پر باتیں کلیم کی

    سرکار لامکاں میں ہوئے حق سے ہم کلام

    یا سیدالحجاز و یا سیدالعجم

    چشم کرم کہ خواجۂ عالم ہے تیرا نام

    تیری نماز مسجد اقصیٰ سے یہ کھلا

    ہیں مقتدی تمام رسل اور تو امام

    اس بارگاہ پاک کی اللہ رے عظمتیں

    جس بارگاہ پاک کا جبریل ہے غلام

    بہتر ہے ساری صبحوں سے طیبہ کی ایک صبح

    افضل ہے ساری شاموں سے یثرب کی ایک شام

    ملتی ہے فقیر کو تیرے کرم کی بھیک

    حاصل رہے غریب کو کیفیت مدام

    دونوں جہاں میں تیرے سوا اورکون ہے

    مولائے کل شفیع امم رحمت تمام

    حل ہوگئیں ہیں مشکلیں مجھ خستہ حال کی

    جب بھی زباں پہ آیا ہے مشکل کشا کا نام

    ان پر درود جن سے ہے کعبے کی آبرو

    ان پر سلام جن سے مدینہ ہے نیک نام

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے