یا رب ہو در محبوب پر قیام
یا رب ہو در محبوب پر قیام
طیبہ کے رات دن ہوں مدینے کی صبح و شام
گزرے حیات کوئے رسول کریم میں
چومے نگاہ بام و در سیدالانام
ہے کیف بار سلسلہ اشک و آہ بھی
جاری رہے حضور سے یہ نامہ و پیام
اللہ سے تھیں طور پر باتیں کلیم کی
سرکار لامکاں میں ہوئے حق سے ہم کلام
یا سیدالحجاز و یا سیدالعجم
چشم کرم کہ خواجۂ عالم ہے تیرا نام
تیری نماز مسجد اقصیٰ سے یہ کھلا
ہیں مقتدی تمام رسل اور تو امام
اس بارگاہ پاک کی اللہ رے عظمتیں
جس بارگاہ پاک کا جبریل ہے غلام
بہتر ہے ساری صبحوں سے طیبہ کی ایک صبح
افضل ہے ساری شاموں سے یثرب کی ایک شام
ملتی ہے فقیر کو تیرے کرم کی بھیک
حاصل رہے غریب کو کیفیت مدام
دونوں جہاں میں تیرے سوا اورکون ہے
مولائے کل شفیع امم رحمت تمام
حل ہوگئیں ہیں مشکلیں مجھ خستہ حال کی
جب بھی زباں پہ آیا ہے مشکل کشا کا نام
ان پر درود جن سے ہے کعبے کی آبرو
ان پر سلام جن سے مدینہ ہے نیک نام
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.