Font by Mehr Nastaliq Web

اصل ان کی نور ذات ہے صورت بشر کی ہے

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

اصل ان کی نور ذات ہے صورت بشر کی ہے

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ

    اصل ان کی نور ذات ہے صورت بشر کی ہے

    تصویر آئینے میں بھی آئینہ گر کی ہے

    وہ ہیں علیم ان کو ہر اک شئے کا علم ہے

    وہ ہیں خیبر ان کو خبر ہر خبر کی ہے

    ان سے سکون قلب و نظر مانگتا ہوں میں

    ان کے ہی ہاتھ لاج مری چشم تر کی ہے

    مجھ کو شہ امم سے توقع ہے خیر کی

    امید ان کی ذات سے ہی دفع شر کی ہے

    سمجھا خرد نے اور انہیں عشق نے کچھ اور

    بات اپنے اپنے ذوق کی اپنی نظر کی ہے

    صل علی دیار مدینہ کے رات دن

    صورت کچھ اور جلوہ شام و سحر کی ہے

    اس نعت میں ہے حضرت احمد رضا کا رنگ

    یعنی زمین شعر اسی دیدہ ور کی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے