اصل ان کی نور ذات ہے صورت بشر کی ہے
اصل ان کی نور ذات ہے صورت بشر کی ہے
تصویر آئینے میں بھی آئینہ گر کی ہے
وہ ہیں علیم ان کو ہر اک شئے کا علم ہے
وہ ہیں خیبر ان کو خبر ہر خبر کی ہے
ان سے سکون قلب و نظر مانگتا ہوں میں
ان کے ہی ہاتھ لاج مری چشم تر کی ہے
مجھ کو شہ امم سے توقع ہے خیر کی
امید ان کی ذات سے ہی دفع شر کی ہے
سمجھا خرد نے اور انہیں عشق نے کچھ اور
بات اپنے اپنے ذوق کی اپنی نظر کی ہے
صل علی دیار مدینہ کے رات دن
صورت کچھ اور جلوہ شام و سحر کی ہے
اس نعت میں ہے حضرت احمد رضا کا رنگ
یعنی زمین شعر اسی دیدہ ور کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.