وصف کس منہ سے بیاں ہو اس سراپا ناز کا
وصف کس منہ سے بیاں ہو اس سراپا ناز کا
رنگ جلوے میں نظر آتا ہے جلوہ ساز کا
میں نہیں ہوں معتقد مفتی کا فرساز کا
مجھ پہ طوف عشق لازم ہے حریمِ ناز کا
اب نگاہوں میں ہے جلوہ بارگاہِ ناز کا
دیکھ جبریل امیں عالم مری پراز کا
صدقہ لینے آئیں حوریں عاشق جاں باز کا
اللہ اللہ مرتبہ ان کے شہیدِ ناز کا
یہ بھی تو فیضان ہے اک صاحب اعجاز کا
ہے سردش غیب پر دھوکا مری آواز کا
نعت کے مفہوم کو اہل خرد جھیں گے کیا
نعت تو اک نغمہ رنگیں ہے دل کے ساز کا
خود بخود آنے لگی ہے لب پر اب نعت رسول
اب چھپا سکتا نہیں نغمے کو پردہ ساز کا
آ بتاؤں تجھ کو میں کیا شے ہے تسنیم و بہشت
ایک عکس رخ ہے اک دھوون ہے پائے ناز کا
لا انہیں اک دن مرے دل کے بھی کچھ نغمے سنا
جو یہ کہتے ہیں کہ نغمہ کیا شکستہ ساز کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.