Font by Mehr Nastaliq Web

وصف کس منہ سے بیاں ہو اس سراپا ناز کا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

وصف کس منہ سے بیاں ہو اس سراپا ناز کا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ

    وصف کس منہ سے بیاں ہو اس سراپا ناز کا

    رنگ جلوے میں نظر آتا ہے جلوہ ساز کا

    میں نہیں ہوں معتقد مفتی کا فرساز کا

    مجھ پہ طوف عشق لازم ہے حریمِ ناز کا

    اب نگاہوں میں ہے جلوہ بارگاہِ ناز کا

    دیکھ جبریل امیں عالم مری پراز کا

    صدقہ لینے آئیں حوریں عاشق جاں باز کا

    اللہ اللہ مرتبہ ان کے شہیدِ ناز کا

    یہ بھی تو فیضان ہے اک صاحب اعجاز کا

    ہے سردش غیب پر دھوکا مری آواز کا

    نعت کے مفہوم کو اہل خرد جھیں گے کیا

    نعت تو اک نغمہ رنگیں ہے دل کے ساز کا

    خود بخود آنے لگی ہے لب پر اب نعت رسول

    اب چھپا سکتا نہیں نغمے کو پردہ ساز کا

    آ بتاؤں تجھ کو میں کیا شے ہے تسنیم و بہشت

    ایک عکس رخ ہے اک دھوون ہے پائے ناز کا

    لا انہیں اک دن مرے دل کے بھی کچھ نغمے سنا

    جو یہ کہتے ہیں کہ نغمہ کیا شکستہ ساز کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے