جب سامنے نظروں کے دربار نبی ہوگا
جب سامنے نظروں کے دربار نبی ہوگا
کیا علم مستی میں سرشار نبی ہوگا
لے جاو اسے شاہ کونین کے کوچے میں
اچھا نہ مسیحا سے بیمار نبی ہوگا
رحمت کے عوض بیچوں گا جنس گناہوں کی
محشر جسے کہتے ہیں بازار نبی ہوگا
اک روز مرا مدفن طیبہ کی زمیں ہوگی
اک روز مرا مسکن گلزار نبی ہوگا
غم امت عاصی کا جب دل پہ ہوا طاری
اللہ قیامر میں غم خوار نبی ہوگا
جب قافے مستوں کے پہنچیں گے مدینے میں
مظہرؔ بھی کھڑا زیر دیوار نبی ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.