Font by Mehr Nastaliq Web

جب سامنے نظروں کے دربار نبی ہوگا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

جب سامنے نظروں کے دربار نبی ہوگا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ

    جب سامنے نظروں کے دربار نبی ہوگا

    کیا علم مستی میں سرشار نبی ہوگا

    لے جاو اسے شاہ کونین کے کوچے میں

    اچھا نہ مسیحا سے بیمار نبی ہوگا

    رحمت کے عوض بیچوں گا جنس گناہوں کی

    محشر جسے کہتے ہیں بازار نبی ہوگا

    اک روز مرا مدفن طیبہ کی زمیں ہوگی

    اک روز مرا مسکن گلزار نبی ہوگا

    غم امت عاصی کا جب دل پہ ہوا طاری

    اللہ قیامر میں غم خوار نبی ہوگا

    جب قافے مستوں کے پہنچیں گے مدینے میں

    مظہرؔ بھی کھڑا زیر دیوار نبی ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے