Font by Mehr Nastaliq Web

دل سے اک ہوک اٹھی سوئے مدینہ دیکھا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

دل سے اک ہوک اٹھی سوئے مدینہ دیکھا

حافظ مظہرالدین مظہرؔ

MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ

    دل سے اک ہوک اٹھی سوئے مدینہ دیکھا

    ہم نے طوفان میں جب اپنا سفینہ دیکھا

    علم و عرفانِ الٰہی کا خزینہ دیکھا

    عشق سرکار سے معمور جو سینہ دیکھا

    ان کے صدقے جنہیں یادِ شہِ ابراری

    ان کے قربان جن آنکھوں نے مدینہ دیکھا

    کون جز سرورِ دیں عرش بریں تک پہنچا

    کس نے قصر شہِ لولاک کا زینہ دیکھا

    خرد اس معجزۂ شوق پر حیران ہوئی

    ان کے دربار میں جب مجھ سا کمینہ دیکھا

    اس نے تنویر رخ ماہ مدینہ دیکھی

    جس بشر نے بھی مرے دل کا نگینہ دیکھا

    مجھ سا ناکارہ اور اس پر یہ نزول الہام

    مرے آقا تری بخشش کا قرینہ دیکھا

    آج مظہرؔ سے سرِ راہ ملاقات ہوئی

    آج ہم نے بھی سگ کوئے مدینہ دیکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے