دل سے اک ہوک اٹھی سوئے مدینہ دیکھا
دل سے اک ہوک اٹھی سوئے مدینہ دیکھا
ہم نے طوفان میں جب اپنا سفینہ دیکھا
علم و عرفانِ الٰہی کا خزینہ دیکھا
عشق سرکار سے معمور جو سینہ دیکھا
ان کے صدقے جنہیں یادِ شہِ ابراری
ان کے قربان جن آنکھوں نے مدینہ دیکھا
کون جز سرورِ دیں عرش بریں تک پہنچا
کس نے قصر شہِ لولاک کا زینہ دیکھا
خرد اس معجزۂ شوق پر حیران ہوئی
ان کے دربار میں جب مجھ سا کمینہ دیکھا
اس نے تنویر رخ ماہ مدینہ دیکھی
جس بشر نے بھی مرے دل کا نگینہ دیکھا
مجھ سا ناکارہ اور اس پر یہ نزول الہام
مرے آقا تری بخشش کا قرینہ دیکھا
آج مظہرؔ سے سرِ راہ ملاقات ہوئی
آج ہم نے بھی سگ کوئے مدینہ دیکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.