جب لیا نام نبی میں نے دعا سے پہلے
جب لیا نام نبی میں نے دعا سے پہلے
مری آواز وہاں پہنچی صبا سے پہلے
کوئی آگاہ نہ تھا شان خدا سے پہلے
جلوہ بے رنگ تھا اک میلوہ نما سے پہلے
کر نہ منزل کی طلب راہنما سے پہلے
ذکر محبوب سنا ذکر خدا سے پہلے
بے وضو عشق کے مذہب میں عبادت ہے حرام
خوب رو لیتا ہوں خواجہ کی ثنا سے پہلے
ترے عرفان پر موقوف ہے عرفان خدا
کہ ترا نام سنا ہم نے خدا سے پہلے
دم آخر مجھے آقا کی زیارت ہوگی
ایک دن آئیں گے سرکار قضا سے پہلے
حق سے کرتا ہوں دعا پڑھ کے محمد پہ دردو
یہ وسیلہ بھی ضروری ہے دعا سے پہلے
ہم نے بھی اس در اقدس پر جمائی ہے نظر
جس جگہ منگتوں کو ملتا ہے صدا سے پہلے
نعت میں کیف و اثر کی ہے طلب تو مظہرؔ
مانگ لے سوز درِ شاہِ ہدا سے پہلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.