دل میں شہ_کونین کی جلوہ_فگنی ہے
دل میں شہ کونین کی جلوہ فگنی ہے
اب دل کی فضا رشک بہار چمنی ہے
جس دل میں کہ عشق شہ مکی مدنی ہے
نایاب نگینہ ہے عقیق یمنی ہے
گیسوئے محمد ہیں کہ رحمت کی گھٹائیں
عارض کی صباحت ہے کہ صبح چمنی ہے
اعجاز ہی اعجاز ہیں تیرے لب گفتار
حکمت کا خزینہ تری شیریں سخنی ہے
منظور مجھے عشق نبی میں ہے تڑپنا
مطلوب مرا سوز اویس قرنی ہے
اے گنج گہر بار ہے خالی مرا دامن
اے رحمت کونین تری ذات غنی ہے
ترا ہی کرم سینہ و بازوئے علی ہیں
تیری ہی عطا جذبہ خیبر شکنی ہے
اے سید و سلطان امم تیری دہائی
آلام نے گھیرا ہے مری جاں پہ بنی ہے
مظہرؔ کی تب و تاب سے کچھ ہم بھی ہیں واقف
جاں دادۂ انداز اویس قرنی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.