زائروں کی بھیڑ ہو روضہ تیرا ہو، میں نہ ہوں
زائروں کی بھیڑ ہو روضہ تیرا ہو، میں نہ ہوں
وائے ناکامی کہ اک خلق خدا ہو، میں نہ ہوں
دل کی دل ہی میں مری جاتی ہیں گھٹ کر حسرتیں
قافلہ ملک عرب کو جا رہا ہو، میں نہ ہوں
صدقہ اس روضہ کے دل سے جسم سے اور جان سے
اک جہاں اک خلق اک عالم فدا ہو، میں نہ ہوں
میں وہ رد خلق ٹھہرا ہوں کہ بزم شاہ میں
انس ہو جن ہوں فرشتہ ہوں ہوا ہو، میں نہ ہوں
کس طرح روضہ پہ جا کر یا خدا ہوں باریاب
جب مری تقدیر میں یہ ہی لکھا ہو، میں نہ ہوں
دفتر ذکر نبی حافظؔ ہے تیری یادگار
تا قیامت خلق میں شہرہ مرا ہو میں نہ ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.