تاج شاہی بھی ٹھوکر میں اپنی رہا جب کہ دل سے غلام نبی ہوگئے
تاج شاہی بھی ٹھوکر میں اپنی رہا جب کہ دل سے غلام نبی ہوگئے
حمیدالدین عاقلؔ
MORE BYحمیدالدین عاقلؔ
تاج شاہی بھی ٹھوکر میں اپنی رہا جب کہ دل سے غلام نبی ہوگئے
ان کے در کی فقیری جو ہم کو ملی دونوں عالم سے ہم بھی غنی ہوگئے
جن کے معبود تھے پتھروں کے صنم بت کدہ بن گیا تھا خدا کا حرم
بھیس میں آدمی کے جب آپ آگئے جتنے تھے آدمی آدمی ہوگئے
صدقِ صدیق بھی عدل فاروق بھی سب انہی کے ہے فیض کرم کا اثر
یہ غلامی میں آئے غنی ہوگئے وہ فدائی بنے تو علی ہوگئے
عرش پر گھومتی فرش پر گونجتی اہل دل کی تھی دھڑکن بلالی اذاں
جب سیہ فام حبشی نے تھامے قدم لطف سرکار سے سیدی ہوگئے
کون تھا جانتا کون تھا مانتا ہم تو گمنامیوں کے اندھیرے میں تھے
ان کے ذکر مبارک کی برکت ہے یہ ہم بھی عاقلؔ جواب عالمی ہوگئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.