کھڑے ہیں جبرئیل ہاتھ باندھے نبی کو مژدہ سنارہے ہیں
کھڑے ہیں جبرئیل ہاتھ باندھے نبی کو مژدہ سنارہے ہیں
اٹھو کہ معراج کی ہے شب یہ فرشتے رف رف کو لا رہے ہیں
نہیں ہے حوروں کو تاب فرقت نگاہِ حسرت سے سب ہیں نگراں
فلک کے پردے اٹھے ہوئے ہیں کہ حق کے محبوب آرہے ہیں
کبھی نہ ایسا ہوا نہ دیکھا کسی نے ہرگز یہ ساز و ساماں
کہ راہ میں کہکشاں بچھی ہے حضور رف رف پہ جا رہے ہیں
ازل سے جس کے لیے نگاہیں بلند یوں میں بھٹک رہی تھیں
ہر ایک منزل پہ جا کے خود ہی وہ آج جلوہ دکھا رہے ہیں
ہزاروں دن سے یہ شب ہے بہتر کہ جس سے رونق ملی ہے دیں کو
اسی کی برکت سے آج دیکھو ستارے سب جگمگا رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.